نواز شریف نے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ میں حسن اور حسین نواز کا کیس میں نے نہیں لڑا، حسن اور حسین کا بیان میرے خلاف بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا، جے آئی ٹی کی طرف سے قلمبند کئے گئے بیان کی قانون کی نظر میں کوئی وقعت نہیں۔
نواز شریف بیان لکھواتے لکھواتے جذباتی ہوگئے اور تحریری بیان پڑھنا چھوڑ کر براہ راست جج سے مخاطب ہوگئے اور کہا کہ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ یہ کیس کیوں بنایا گیا، استغاثہ کو بھی پتہ نہیں ہو گا کہ کیس کیوں بنایا، دنیا بھر کے بچے باہر پڑھتے اور کاروبار کرتے ہیں، میرے بچوں نے اگرمجھے پیسے بھیج دیے تو کون سا عجوبہ ہو گیا، میں وزیراعظم رہا ہوں میرے بچے یہاں کاروبار کریں تب مصیبت، باہر کریں تب مصیبت، میرے بچوں نے اچھا کیا بیرون ملک کاروبار کیا، میں سیاست میں تھا اور وزیراعظم ہونے کی وجہ سے مجھے اپنے کام کےلیے فرصت نہیں تھی۔