شاہد اللہ نے کہا کہ دبئی میں پیسہ علمیہ خان کا نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان کا ہے‘1970میں جو قیمتیں تھیں ان کی بنیاد میں یہ کاسٹنگ ہوئی اور علمیہ خان نے اس آف شور کمپنی کا پیسہ بطور جرمانہ اور ٹیکس فیڈرل بور ڈ آف ریونیو(ایف بی آر)اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی ای)ادا کیا،آف شور کمپنی عمران خان کی بھی ہے اور ان کی ہمشیرہ علمیہ خان کی بھی ہے مگر نواز شریف پانامہ کیس میں آف شور کمپنی کی وجہ سے نااہل ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ قومی احتساب بیورو(نیب)اپنی کارکردگی صحیح طرح نہیں دکھا رہا،اگر وہ اپنی اصل کارکردگی دکھائے تو موجودہ کابینہ کے 80فیصد لوگ جیل میں ہوں گے،جن کے خلاف ریفرنسز ہیں وہ وزیراعظم اور وزیر ہیں ،جن کے خلاف صرف انکوئری چل رہی تھی وہ جیلوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہدبئی میں 15ارب کی سامنے آنے والی جائیداد حکومت اس لئے واپس نہیں لائے گی کیونکہ یہ ان کے اپنے لوگوں کی ہے،پاکستان کے سارے کرپٹ لوگوںعمران خان کی پارٹی میں شامل ہیں