ذرائع کے مطابق سندھ چاہتا ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان کو حاصل پانی کی کمی کا استثنی بھی ختم کیا جائے لیکن یہ مسئلہ سنگین ہے کیوں کہ استثنیٰ ختم کرنے سے کے پی کے اور بلوچستان کے لیے پانی کی کمی 50 فی صد تک ہوجائے گی۔پہلا اجلاس بے نتیجہ رہنے پر اٹارنی جنرل نے 4 دسمبر کو دوسرا اجلاس طلب کرلیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی کو مدعو کیا گیا ہے۔